.

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام قسط نمبر ۸



حضرت ابراہیم ؑ کے ہاتھوں بیت اللہ کی 
تعمیر 

  روئے زمین پر سب سے معزز اور مقدس مقام بیت اللہ ہے، اس مبارک سرزمین کی عظمت اور اس کا احترام صرف امت محمدیہ ہی میں نہیں بلکہ پچھلی امتوں میں بھی رہا ہے، اور یہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا قرآن کہتا ہے {إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ} (آل عمران:96) یقینا سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا، وہی ہے جو مکہ میں واقع  ہے، بہت بابرکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم ؑ کو دوسرے انبیاء پر جو خاص قسم کی فضيلت عطا کی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کعبۃ اللہ کی تعمیر آپ کے ہاتھوں سے کرائی۔
حضرت ابراہیم ؑ کبھی شام میں اپنی بیوی حضرت سارہ ؑ اور اپنے بیٹے حضرت اسحاقؑ کے پاس رہتے تو کبھی مکہ مکرمہ میں اپنی بیوی حضرت ہاجرہؑ اور اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ کے پاس رہا كرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنے گھر کی تعمیر کا حکم فرمایا تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ سے اس کا تذکرہ فرمایا اور پوچھا کہ کیا تم اس کے لیے میری مدد کرو گے؟ فرمانبردار بیٹے نے اپنے والد کے حکم پر سر تسلیم خم کیا، (کعبۃ اللہ کا وجود اس سے پہلے ہی تھا، لیکن طوفان نوحؑ کے وقت منہدم ہوگیا تھا، البتہ اس کی بنیادیں موجود تھی )اللہ کے حکم کے مطابق دونوں باپ بیٹے بیت اللہ کی تعمیر میں لگ گئے۔ جس کا ذکر قرآن نے اس طرح کیا ہے {وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} (البقرة:127) اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم ؑ بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور اسماعیل ؑ بھی (ان کے ساتھ شریک تھے، اور دونوں کی زبان پر تعمیر کے وقت یہ دعا جاری تھی کہ) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی، ہر ایک کی سننے والا، ہر ایک کو جاننے والا ہے۔ {رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ} (البقرة:128) اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرمانبردار بنا لے اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھا دے اور ہماری توبہ قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی معاف کردینے کا خوگر (اور) بڑی رحمت کا مالک ہے۔ 
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کی اس دعا کو قبول فر مایا۔ اور انکی دعائیں اتنی پسند آئیں کہ قیامت اسے قرآن کا حصہ بنا دیا (جو قیامت تک محفوظ رہے گا)
اس عظیم کارنامے کو انجام دینے کے باوجود بھی حضرت ابراہیم ؑ کی زبان پر نہ فخریہ الفاظ ہیں اور نہ ہی دل میں ناز  ہے بلکہ دل عجز و انکساری  اور زبان پر یہ کلمات ہیں کہ اے اللہ میری یہ خدمت اور یہ میرا عمل اس لائق تو نہیں ہے کہ آپ کی بارگاہ میں اسے شرف قبوليت حاصل ہو، لیکن اے اللہ آپ اپنے فضل و کرم سے اسے قبول فرما لیجئے ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ نے دعا میں اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ ایک مسلمان کا کام صرف خود فرمانبردار بنے رہنا نہیں، بلکہ اس کے فرائض میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنی اولاد کی بھی فکر کرے۔
پھر اس تعمیر کی فراغت کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے حکم الہی کی پیروی کرتے اس مقدس گھر کی زیارت اور حج کے لئے لوگوں میں اعلان کیا چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ  {وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ} (الحج:27) اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔ 
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اس کے بغیر اسلام کی عمارت مکمل نہیں ہوسکتی، اور اس کا انکار کرنے والا کافر ہے ارشاد باری ہے {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} (آل عمران:97)اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بےنیاز ہے۔
اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہﷺ نے فرمایا "مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّه" (صحیح بخاری:1512) جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہوگا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ 
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
 احمد صدیق ✒️

No comments: