.

سیرت سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام



سیرت سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام

ابراہیمؑ کی بت شکنی (بتوں کا توڑنا) ●
آگ گلزار بن گئی ●
حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ کو پہچاننا ●
حضرت ابراہیم ؑ کی مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت ●
زمزم کا پانی ●
حضرت ابراہیم ؑ کا خواب اور حضرت اسمٰعیل ؑ کی قربانی ●
حضرت ابراہیم ؑ کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر ●

الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین وبعد 
     حضرت سیدنا ابراہیم ؑحضرت سیدنا آدم ؑ کے بعد آنے والے سب سے بڑے پیغمبر حضرت سیدنا نوحؑ کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ شہرِ عراق کے کلدانی خاندان کی ایک بڑی شخصیت کے بیٹے تھے، حضرت ابراہیم ؑ کا خاندان ستارہ پرست مشرک خاندان تھا، یہ لوگ ستاروں کو خدا سمجھ کر ان کی علامتوں کو بت (مورتی) کی صورت میں بنا کر اس کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان بتوں کو بیچتے تھے، ان کے گھر میں بھی بہت سارے بت تھے، (وہ بت تراش اور بت فروش تھے)۔
  جب حضرت ابراہیمؑ چھوٹے تھے اورلوگوں کو بتوں کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھتے تھے تو حیرت میں پڑتے تھے کہ لوگ بے جان پتھروں کے سامنے اپنے سروں کو کیوں جھکاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑکا دل ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے کہ حضرت ابراہیم ؑجانتے تھے کہ یہ بت صرف پتھر ہیں جو نہ بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی سن سکتے ہیں، نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ابراہیم  ؑیہ بھی دیکھتے تھے کہ اگر کوئی مکھی ان بتوں پر آکر بیٹھے تو یہ بت ان کو ہٹا بھی نہیں سکتے۔ 
حضرت ابراہیم ؑکو اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ لوگ ان بتوں کے لیے کھانا اور مٹھائیاں لاکر رکھتے ہیں اور چوہا ان کو کھاجاتا ہے اور یہ بت اس کو روک بھی نہیں سکتے۔ 
  حضرت ابراہیم ؑجب چھوٹے تھے اور ان ساری چیزوں کو دیکھتے تھے تو اپنے والد آزر سے کہتے تھے کہ اے میرے اباجان! آپ ان بتوں کو کیوں کر سجدہ کرتے ہیں؟ ان کی عبادت کیوں کر کرتے ہیں؟ اس طرح حضرت ابراہیم ؑ کے ذہن میں یہ بات نہیں جاتی تھی کہ یہ لوگ ان بتوں سے کیوں  مانگتے ہیں؟ 
  اس کے بعد سے حضرت ابراہیم ؑ لوگوں کو اس کے بارے میں نصیحت کرنے لگے، لوگ آپ سے بھاگنے اور نفرت کرنے لگے، نہ آپ کی بات دھیان سے سنتے اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ ان باتوں کو دیکھ کر بہت کڑھتے رہتے تھے۔
ابراہیمؑ کی بت شکنی (بتوں کا توڑنا):

جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت کرتے دیکھتے تو اپنے ہی دل میں یہ کہتے کہ میں ایک دن ان بتوں کو ضرور توڑ ڈالوں گا۔
ان ہی دنوں کا واقعہ ہے کہ لوگوں کی خوشی یعنی عید کا دن آگیا، شہر کے لوگ، بچے، بوڑھے سب عید کی رسومات ادا کرنے (عبادت) کے لیے نکلے، حضرت ابراہیمؑ کے والد بھی ان کے ساتھ چلے گئے، چلتے وقت انھوں نے اپنے بیٹے حضرت ابراہیمؑ کو بھی بلایا، تو ابراہیمؑ نے ساتھ جانے سے انکار کیا اور اپنے والد سے کہا کہ میں بیمار ہوں اس لیے نہیں آسکتا۔ اب حضرت ابراہیمؑ کو ایک موقعہ مل گیا اور جس گھر میں بت رکھے ہوئے تھے وہ اس گھر میں چلے گئے، ابراہیم ؑ کو بتوں کی بے بسی اور عاجزی کے بارے میں معلوم تھا اس لیے آپ نے ان بتوں کے توڑنے کا ارادہ کیا تاکہ لوگ بھی اپنے معبودانِ باطل کی بے بسی اور عاجزی کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اور ہوسکتا ہے کہ اس سے کسی کے دل میں ایمان پیدا ہو اور وہ شرک سے توبہ کریں، اس ارادے سے حضرت ابراہیم ؑ نے ایک کلہاڑی لی اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا، بس صرف ایک بڑے بت کو چھوڑا اور اس کی گردن میں اس کلہاڑی کو لٹکا دیا۔ اور جب ان بتوں کا تہوار ختم ہوگیا تو شام کو لوگ لوٹنے لگے اور اس گھر میں داخل ہونے لگے جس گھر میں ان کے بہت سارے بت تھے تاکہ ان کو سجدہ کریں، اس لیے کہ یہ دن تو عید کا دن ہے، لیکن یہ کیا ہوگیا؟ جیسے ہی وہ داخل ہوئے تو انھوں نے اپنے بڑے بت کو دیکھا کہ اس کی گردن پر کلہاڑی لٹکی ہوئی ہے اور تمام چھوٹے بت ریزہ ریزہ ہوچکے ہیں۔ 
لوگوں نے غصے سے کہا کہ کون ہے وہ جس نے ہمارے معبودوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا ہے؟ اور لوگ دہشت میں پڑگئے اور افسوس بھی کرنے لگے کہ کاش ہم اپنے معبودوں کی حفاظت کے لیے کسی کو چھوڑ تے جو ان کی حفاظت کرتا۔ 
ذرا سوچیے! معبود جس کی عبادت کی جاتی ہے، جس کے لیے سجدے کیے جاتے ہیں تو کیا اس کی عبادت کرنے والا اور اس کے لیے سجدہ کرنے والا اس کی حفاظت کرسکتا ہے؟ معبود تو وہ ہوتا ہے جو بے نیاز ہوتا ہے، اس کو کسی کی حفاظت کی ضرورت تو ہوتی نہیں ہے وہ خود دوسروں کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ جب ذرا ہوش ٹھکانے لگنے لگے تو آپس میں چہ می گوئیاں ہونے لگی کہ یہ کس کی حرکت ہوسکتی ہے؟ چوں کہ حضرت ابراہیم ؑ شروع ہی سے بت پرستی کے خلاف تھے اور تہوار کی خوشیوں میں بھی ان کے ساتھ شریک نہ ہوسکے تھے اس لیے شک کی انگلیاں انھیں کی طرف اٹھنے لگیں، کچھ لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے شک کی تصدیق کرنی چاہی اور پوچھا کہ اے ابراہیم! کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ اس طرح کی حرکت تم نے کی ہے؟ 
اس پر حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے کہا  ”بلکہ یہ سب ان بڑے میاں نے کیا ہے ان ہی سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں“۔ آدمی کی عقل بھی یہی کہتی ہے کہ بڑا معبود موجود ہے اورکلہاڑی بھی اسی کی گردن پر لٹک رہی ہے تو اسی سے اس کا ماجرا پوچھنا چاہیے۔ لوگ اس بات کو اچھی طرح سے جانتے تھے کہ یہ بت پتھر ہے جو نہ سنتا ہے اور نہ ہی بولتا ہے اور اس بات کو بھی جانتے تھے کہ یہ بڑا بھی انھیں کی طرح پتھر ہے جو نہ چل سکتاہے اور نہ حرکت کر سکتا ہے اور نہ ہی ان چھوٹے بتوں کے توڑنے کی اس میں قدرت ہے۔ 
حضرت ابراہیم ؑ کے جواب پر ان کو عاجزی اوربے بسی کی حالت میں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اور انھوں نے خود ابراہیم ؑ سے کہا کہ اے ابراہیم! تمھیں تو معلوم ہی ہے یہ بت بات نہیں کر سکتے!!
اب حضرت ابراہیمؑ کو موقع ملا تو آپ فوراً فرمانے لگے کہ یہ بے زبان (جو بات نہیں کرسکتا) اس کی عبادت سے کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ بوجھ نہیں ہے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟
سب کی زبانیں خاموش ہوگئی اور شرمندگی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔ 
آگ گلزار بن گئی: 
حضرت ابراہیم ؑ کی قوم جب پوری طرح لاجواب ہوگئی تو ابراہیم ؑ کی جان کے درپے ہوگئی، اس لیے کہ ان کے ہوتے ہوئے معبودانِ باطل کی حفاظت مشکل ہے،  پھر اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے آپس میں مشورہ کیا کہ اب حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا کیا جائے؟ 
نمرود اور تمام لوگوں نےاس بات پر متفق ہوکر یہ فیصلہ کیا کہ ان کو آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے۔ پھر اس کی تیاری میں سب سے پہلے زمین میں ایک گہرا گڑھا کھودا گیا اور لوگوں کو جنگلات سے لکڑیاں کاٹ کر لانے پر مامور کیا گیا اور اس آگ کو جلانے میں انھوں نے پورا مہینہ محنت و مشقت کی۔ 
جب لکڑیوں کا ایک انبار بن گیا تو اب اس میں آگ لگائی اور آگ بھی ایسی لگائی کہ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی تھی، اور اس آگ کے شعلے آسمان تک جانے لگے، اور اس کے قریب جانا مشکل ہوگیا، اب لوگ پریشان ہوگئے کہ اس میں ابراہیمؑ خلیل اللہ کو کیسے ڈالا جائے؟ پھر کسی کے مشورے سے ایک منجنیق (Catapult) تیار کرائی گئی، اس میں حضرت ابراہیم ؑ کو بٹھا کر اس آگ میں پھینکا گیا، تو اس وقت حضرت ابراہیم ؑ نے صرف یہی فرمایا ”حسبنا اللہ ونعم الوکیل“۔ 
کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت جبرئیل ؑ آپ کے سامنے آئے اور پوچھنے لگے کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟  اس وقت آپ نے حضرت جبرئیل ؑ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ضرورت و حاجت صرف اللہ سے ہے۔ 
بارش کا فرشتہ کان لگائے تیار تھاکہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برساکر اسے ٹھنڈا کردوں، لیکن اللہ نے براہ راست آگ کو حکم دیا کہ {يٰنَارُ كُوۡنِىۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَۙ‏} (الأنبياء:69) اے آگ! تو ٹھنڈی ہوجا، اور ابراہیم ؑ کے لیے سلامتی کا کا باعث بن۔اللہ کے حکم پر وہ آگ ٹھندی ہوگئی اور ابراہیم ؑ کے لیے سلامتی کا ذریعہ بن گئی۔ لوگوں نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اس آگ نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور حضرت ابراہیم ؑ تو بڑے خوش اور صحیح سالم تھے۔ 
آپ کو اس بات پر حیرت ہوگی کہ جب اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس بھڑکتی ہوئی آگ سے زندہ اور صحیح سالم بلکہ خوش و خرم اور ہنستے ہوئے نکالا پھر بھی وہ قوم اللہ پر ایمان نہیں لائی، بلکہ بت پرستی ہی میں پڑے رہے۔ اگر اللہ کسی قوم کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو کون ہے جو اس کو روک سکتا ہے؟ اور اسی طرح کسی قوم کو ہدایت دینا چاہتا ہے تو کون ہے جو ہدایت سے روک سکتا ہے؟ ہدایت و گمراہی اللہ ہی کے ہاتھ مین ہے، وہ جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ کو پہچاننا: 
حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی میں ہمارے لیے بہت سارے نمونے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعات میں بہت کچھ ہدایت رکھی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی پیدائش تو اس گھر میں ہوئی ہے جس گھر میں بت فروشی کی جاتی تھی، انھوں نے جب سے اپنی آنکھیں کھولی بت پرستی کو ہی دیکھا لیکن اللہ کی توفیق سے بتوں کی نفرت اور ایک اللہ کی محبت ان کے دل میں بیٹھ گئی۔ 
قرآن نے ایک واقعہ کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایک مرتبہ جب رات میں ستارہ نظر آنے لگا تو آپ کو خیال آیا کہ یہ تو بڑی بلندی پر ہے اور دمکتا بھی ہے لہذا اس کو میں بھی رب مان لیتا ہوں، لیکن کچھ دیر بعد جب ستارہ ڈوب گیا تو آپ کی زبان پر آیا کہ ایسے ڈوبنے والے سے مجھے واسطہ نہیں ہے۔ 
پھر جب چاند نظر آنے لگا کہ وہ رات میں نکل کر خوب اپنی روشنی پھیلا رہا ہے تو آپ کو خیال آیا کہ ٹھیک، یہ تو رب ماننے کے ضرور لائق ہے، لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو آپ کی زبان پر آیا کہ جب تک میرا رب خود ہی میری رہبری نہیں کرے گا میں راستہ نہیں پاؤں گا۔ 
پھر کچھ عرصے بعد آپ کا خیال سورج کی طرف گیا جو کہ پوری طرح چمک کر دنیا بھر کو منور کررہاتھا، دفعۃً آپ کو خیال آیا کہ یہ تو سب سے بڑھ کر ہے، بس یہی میرا رب ہے، لیکن شام کو جب یہ بھی غروب ہوگیا تو آپ پکار اٹھے کہ ان میں سے کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ 
میں تو سب سے کٹ کر صرف اسی ایک معبود برحق کی عبادت کروں گا جو (صرف چاند اور سورج ہی کا نہیں، بلکہ)آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے۔ پھر اپنی قوم سے کہنے لگے کہ تمھارے مشرکانہ عقیدے سے میں پوری طرح براءت کا اعلان کرتا ہوں اور اس پروردگار سے اپنا ناطہ جوڑتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے اور پورے اخلاص کے ساتھ اسی کی اطاعت میں لگا رہتا ہوں۔ یہی وہ حکیمانہ انداز ہے جس کے ذریعے اپنی قوم کو خاموش کیا، ان کے عقیدے اور مشرکانہ تصور کا قلعہ پاش پاش کیا۔ 
جب کوئی اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی طلب کرتا ہے تو اللہ کو اس طرح طلب کرنا بہت محبوب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کو وہ چیز دے دیتے ہیں جس کو وہ طلب کررہا ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم ؑ نے پہچانا کہ ان کا رب تو اللہ ہے جو ہمیشہ ہمیش زندہ رہتا ہے جس کو موت کبھی نہیں آتی ہے، جو بڑا طاقت ور ہے، کوئی چیز اسے مغلوب نہیں کرسکتی ہے، اور اللہ تو وہی ہے جس نے ساری کائنات کو بنایا ہے اور عبادت کے لائق تو وہی ہے اور اسی کی عبادت کی جانی چاہیے۔ 
اس طرح اللہ جلّ جلالہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت دی اور آپ کو نبی بنایا اور اپنا دوست بنایا اور ابراہیم ؑ کو خلیل کا لقب دیا، اس لیے حضرت ابراہیمؑ کو خلیل اللہ کا کہا جاتا ہے۔ 
حضرت ابراہیم ؑ کی مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت:

  حضرت ابراہیم ؑ جب لوگوں کو بت پرستی سے اللہ کی عبادت کی طرف بلاتے تو لوگ آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے، نہ آپ کی باتوں کو سنتے اور نہ ہی آپ کا کہنا مانتے، لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے معجزات کو دیکھا لیکن افسوس اور تعجب کہ کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا، حضرت ابراہیم ؑ ان میں تبلیغ کرتے رہے، اپنے والد آزر سے بھی صاف صاف فرمایا {يٰۤـاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ‌ ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا}(مریم:44) ترجمہ: اے میرے ابا جان ! شیطان کی عبادت نہ کیجیے یقین جانیے کہ شیطان خدائے رحمن کا نافرمان ہے۔
ابراہیم ؑ کی اس دعوت پر ان کے والد نے غصہ کیا، آپؑ کو اپنے گھر سے باہر نکالا، یہاں تک کہ آپ ؑ کا اپنے وطن (عراق) میں رہنا مشکل ہوگیا لیکن اللہ نے آپؑ کو تنہا نہیں چھوڑا۔  پھر ابراہیم ؑ نے  ہجرت کا ارادہ فرمایا تاکہ کسی دوسری جگہ پر جائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور لوگوں کو اس کی طرف بلائیں، تو حضرت ابراہیم ؑ نے بحکم الہی مکہ کا رخ کیا اور ملک شام سے گزرتے ہوئے آپ مکہ مکرمہ پہنچے، اور آپؑ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت ہاجرہ ؑ اور آپ کے فرزند حضرت اسمعیل ؑ تھے۔ 
اس وقت مکہ کی سرزمین بنجر اور غیرآباد تھی، وہاں نہ کوئی انسان تھا اور نہ کوئی درخت، نہ کوئی کنواں تھا اور نہ کوئی نہر۔
حضرت ابراہیم ؑنے اپنے بیٹے اسمٰعیل ؑ کو حضرت ہاجرہ ؑ کے پاس چھوڑا اور اس کی پرورش کرنے کا حکم دیا اور خود چل دیے، چونکہ حضرت ابراہیم ؑکو اللہ کی طرف سے حکم تھا کہ سرزمین شام میں دین کی تبلیغ کریں، حضرت ہاجرہؑ ان کے جانے کو دیکھتی رہی اور آواز دینے لگی کہ کیا آپ ہمیں یہاں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ یہاں نہ کھانا ہے اور نہ پانی، تو حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ مجھے تو اللہ کا حکم یہی ہے، تو حضرت ہاجرہؑ کہنے لگی ہاں تب تو اللہ ہمیں ضائع نہیں کریں گے۔ 
حضرت ہاجرہؑ کو اپنے رب پر یقین اور کامل توکل تھا، اور اللہ بندوں کے گمان کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہے، ہمیں بھی ہر حال میں اللہ پر توکل اور اس پر یقین کرنا چاہیے، ہم جس حال میں بھی ہوں، تنگی ہو یا فراوانی، کھلانے پلانے والا اللہ ہی ہے اور وہی اپنے بندوں کی حاجتوں کو بہتر طریقہ سے پورا کرنے والا ہے۔
زمزم کا پانی: 
  یہ بنجر زمین، کہیں پر  نہ درخت کے آثار، نہ دور دور تک انسانوں کی چہل پہل اور ساتھ میں کوئی توشہ تک نہیں۔ ذرا ہی وقت گزرا تھا کہ چھوٹے بچے جس کی رضاعت کی عمر تھی اس کو پیاس لگی اور بھوک سے پریشان ہوکر رونے لگا، حضرت ہاجرہؑ کے سینے کا دودھ بھی سوکھ گیا تھا، اس ماں نے ارادہ کیا کہ اپنے بچے کو پانی پلائے، لیکن پانی تو یہاں کہاں؟ یہ تو بنجر زمین ہے، پھر بھی اس نبی کی بیوی کو مایوسی نہیں ہوئی، وہ صفا پہاڑی پر چڑھی اور دیکھنے لگی کہ پانی کہیں نظر آتا ہے؟ پھر وہاں سے مروہ پہاڑ پر، اس طرح صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا پہاڑی کے کل سات چکر لگائے اور پھر بچے کی فکر میں واپس چلی گئی اور دیکھ کر حیران رہ گئی۔ 
اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کی مدد فرمائی اور جہاں اسمٰعیل ؑ پیاس کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں سے اللہ نے پانی کو جاری فرمایا اور پانی زمین سے نکلنے لگا، حضرت اسمٰعیل ؑ اور حضرت ہاجرہؑ دونوں سیراب ہوگئے، لیکن پانی رک نہیں رہا تھا، نکلتا ہی جارہا تھا تو حضرت ہاجرہؑ نے اس پانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”زمزم“(رک جا)، پھر اس کنویں کا نام زمزم پڑ گیا۔ 
اللہ تعالیٰ نے اس زمزم پانی میں برکت رکھی ہے، جوکبھی کم نہیں ہوتا، اور لوگ حج میں جانے کے بعد اس سے خوب سیراب ہوتے ہیں، اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں، اور اپنے قریبی لوگوں کو ہدیہ بھی کرتے ہیں۔ 
یہ پانی بڑا بابرکت ہے، اس پانی میں اللہ نے شفا رکھی ہے، حضور اقدسﷺ کا فرمان ہے کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جاتا ہے اسی کے مطابق اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد پورا ہوتا ہے (ابن ماجہ:۲۶۰۳)۔ 
  اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ جس طرح کوششیں کرتا ہے اللہ اس کے لیے اسی طرح راستے کھول دیتا ہے اور کوشش کرنے سے اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کا خواب اور حضرت اسمٰعیل ؑ کی قربانی: 
جب یہ بچہ پرورش کے بعد اپنے دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچا، اور اپنے والد کو کچھ سہارا دینے کے لائق ہوا، والد کی چاہت اپنے بیٹے سے بڑھنے لگی، تو والد کو خواب میں دکھا یا گیا کہ وہ اپنے چہیتے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ چونکہ انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوا کرتے ہیں اور وحی کا درجہ رکھتے ہیں، اس کا پورا کرنا نبی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور شیطان نبی کے خواب میں نہیں آسکتا۔
اس لیے صبح اٹھتے ہی اپنے بیٹے کو جانچنے کے لیے اس خواب کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا جس کی منظر کشی قرآن اس طرح  کرتاہے {يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ} (الصافات:102) بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
یہ اللہ کے خلیل کے بیٹے نے  خلیل کے اس تذکرہ پر فرمایا {يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌  سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ} (الصافات:102) اے میرے ابا جان! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ 
اللہ اللہ! اس خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ چھری لے کر نکلے وہ بیٹا جو بہت آرزوؤں کے بعد عطا کیا گیا تھا جب وادئ منیٰ پہنچے تو شیطان بہکانے کے لئے آیا تو کنکریوں سے اس کو ذلیل کرکے اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹایا، اس وقت بیٹا اپنے والد سے کہتا ہے کہ اے میرے اباجان! آپ مجھے خوب اچھی طرح باندھ دیجیے تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنی چھری کو تیز کرلیجیے تاکہ آسانی سے میرا دم نکل سکے۔ 
اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے چھری کو تیز کرکے اپنے بیٹے کے حلقوم پر رکھا، آہ یہ امتحان کس قدر سخت ہے ؟!!! جب چھری چلانے لگے تو وہ چھری اپنا کام نہیں کرسکی، اور حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ کو ذبح نہیں کرپائے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو مقصود ان کو آزمانا اور ان کا امتحان لینا تھا کہ ان کے نزدیک اللہ کی محبت زیادہ ہے یا بیٹے کی، اسی درمیان آسمان سے آواز آئی {يّٰۤاِبۡرٰهِيۡمُۙ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا‌ۚ}(الصافات: 105) اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا،
اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جنت سے ایک مینڈھا بھیجا تاکہ اسے ذبح کریں، اللہ نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کا یہ عمل بہت ہی زیادہ پسند آیا اور اس کو تمام امت مسلمہ کے لیے قیامت تک کے لئے رائج کردیا، جس کی وجہ سے اسلام میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر حسب استطاعت قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔
ارشاد باری ہے {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2) لہذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔ اور نہ کرنے والوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے "مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا." (سنن ابن ماجہ:3123) جو شخص(قربانی کرنے کی) استطاعت رکھتا ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
محترم قارئین کرام! قربانی صرف جانوروں کو ذبح کرنے کا نام نہیں ہے، قربانی میں اخلاص بہت ضروری ہے، دکھاوے اور نام و نمود کے لیے قربانی بے فائدہ ہے، اور یہ عمل سنت ابراہیمی کی بے حرمتی کا باعث ہے، سوائے نام ونمود کے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے {لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ‌ؕ} (الحج:37) اللہ تعالیٰ کے پاس نہ ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون، بلکہ اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔
اور اللہ کے رسولﷺ نے بھی فرمایا ہے "إنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إلى صُوَرِكُمْ وأَمْوالِكُمْ، ولَكِنْ يَنْظُرُ إلى قُلُوبِكُمْ وأَعْمالِكُمْ." (صحيح مسلم:5264)  یقینا اللہ تعالی نہ تمہارے جسموں کو اور نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے بلکہ تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے 
قرآن و احادیث سے ہمیں یہی حکمتیں معلوم ہوتی ہے کہ قربانی اللہ کا قرب، تقوی، ایثار و جانثاری، مومنانہ صورت و سیرت اور مجاہدانہ کردار کا حامل ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر

  روئے زمین پر سب سے معزز اور مقدس مقام بیت اللہ ہے، اس مبارک سرزمین کی عظمت اور اس کا احترام صرف امت محمدیہ ہی میں نہیں بلکہ پچھلی امتوں میں بھی رہا ہے، اور یہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا قرآن کہتا ہے {اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَـلَّذِىۡ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‌‌ۚ} (آل عمران:96) یقینا سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا، وہی ہے جو مکہ میں واقع  ہے، بہت بابرکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم ؑ کو دوسرے انبیاء پر جو خاص قسم کی فضيلت عطا کی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کعبۃ اللہ کی تعمیر آپ کے ہاتھوں سے کرائی۔
حضرت ابراہیم ؑ کبھی شام میں اپنی بیوی حضرت سارہ ؑ اور اپنے بیٹے حضرت اسحاقؑ کے پاس رہتے تو کبھی مکہ مکرمہ میں اپنی بیوی حضرت ہاجرہؑ اور اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ کے پاس رہا كرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنے گھر کی تعمیر کا حکم فرمایا تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ سے اس کا تذکرہ فرمایا اور پوچھا کہ کیا تم اس کے لیے میری مدد کرو گے؟ فرمانبردار بیٹے نے اپنے والد کے حکم پر سر تسلیم خم کیا، (کعبۃ اللہ کا وجود اس سے پہلے ہی تھا، لیکن طوفان نوحؑ کے وقت منہدم ہوگیا تھا، البتہ اس کی بنیادیں موجود تھی )اللہ کے حکم کے مطابق دونوں باپ بیٹے بیت اللہ کی تعمیر میں لگ گئے۔ جس کا ذکر قرآن نے اس طرح کیا ہے {وَاِذۡ يَرۡفَعُ اِبۡرٰهٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَيۡتِ وَاِسۡمٰعِيۡلُؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ} (البقرة:127) اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم ؑ بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور اسماعیل ؑ بھی (ان کے ساتھ شریک تھے، اور دونوں کی زبان پر تعمیر کے وقت یہ دعا جاری تھی کہ) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی، ہر ایک کی سننے والا، ہر ایک کو جاننے والا ہے۔ {رَبَّنَا وَاجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَـكَ وَ مِنۡ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسۡلِمَةً لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَا ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ} (البقرة:128) اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرمانبردار بنا لے اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھا دے اور ہماری توبہ قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی معاف کردینے کا خوگر (اور) بڑی رحمت کا مالک ہے۔ 
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کی اس دعا کو قبول فر مایا۔ اور انکی دعائیں اتنی پسند آئیں کہ قیامت اسے قرآن کا حصہ بنا دیا (جو قیامت تک محفوظ رہے گا)
اس عظیم کارنامے کو انجام دینے کے باوجود بھی حضرت ابراہیم ؑ کی زبان پر نہ فخریہ الفاظ ہیں اور نہ ہی دل میں ناز  ہے بلکہ دل عجز و انکساری  اور زبان پر یہ کلمات ہیں کہ اے اللہ میری یہ خدمت اور یہ میرا عمل اس لائق تو نہیں ہے کہ آپ کی بارگاہ میں اسے شرف قبوليت حاصل ہو، لیکن اے اللہ آپ اپنے فضل و کرم سے اسے قبول فرما لیجئے ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ نے دعا میں اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ ایک مسلمان کا کام صرف خود فرمانبردار بنے رہنا نہیں، بلکہ اس کے فرائض میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنی اولاد کی بھی فکر کرے۔
پھر اس تعمیر کی فراغت کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے حکم الہی کی پیروی کرتے اس مقدس گھر کی زیارت اور حج کے لئے لوگوں میں اعلان کیا چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ  {وَاَذِّنۡ فِى النَّاسِ بِالۡحَجِّ يَاۡتُوۡكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاۡتِيۡنَ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ} (الحج:27) اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔ 
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اس کے بغیر اسلام کی عمارت مکمل نہیں ہوسکتی، اور اس کا انکار کرنے والا کافر ہے ارشاد باری ہے {وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الۡبَيۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَيۡهِ سَبِيۡلًا ‌ؕ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ} (آل عمران:97)اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بےنیاز ہے۔
اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہﷺ نے فرمایا "مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّه" (صحیح بخاری:1512) جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہوگا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ 
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

   احمد صدیق ✒️


No comments: