.

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام قسط نمبر ٧



حضرت ابراہیم ؑ کا خواب اور حضرت اسمٰعیل ؑ کی قربانی
جب یہ بچہ پرورش کے بعد اپنے دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچا، اور اپنے والد کو کچھ سہارا دینے کے لائق ہوا، والد کی چاہت اپنے بیٹے سے بڑھنے لگی، تو والد کو خواب میں دکھا یا گیا کہ وہ اپنے چہیتے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ چونکہ انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوا کرتے ہیں اور وحی کا درجہ رکھتے ہیں، اس کا پورا کرنا نبی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور شیطان نبی کے خواب میں نہیں آسکتا۔
اس لیے صبح اٹھتے ہی اپنے بیٹے کو جانچنے کے لیے اس خواب کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا جس کی منظر کشی قرآن اس طرح  کرتاہے {يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ} (الصافات:102) بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
یہ اللہ کے خلیل کے بیٹے نے  خلیل کے اس تذکرہ پر فرمایا {يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌  سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ} (الصافات:102) اے میرے ابا جان! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ 
اللہ اللہ! اس خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ چھری لے کر نکلے وہ بیٹا جو بہت آرزوؤں کے بعد عطا کیا گیا تھا جب وادئ منیٰ پہنچے تو شیطان بہکانے کے لئے آیا تو کنکریوں سے اس کو ذلیل کرکے اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹایا، اس وقت بیٹا اپنے والد سے کہتا ہے کہ اے میرے اباجان! آپ مجھے خوب اچھی طرح باندھ دیجیے تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنی چھری کو تیز کرلیجیے تاکہ آسانی سے میرا دم نکل سکے۔ 
اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے چھری کو تیز کرکے اپنے بیٹے کے حلقوم پر رکھا، آہ یہ امتحان کس قدر سخت ہے ؟!!! جب چھری چلانے لگے تو وہ چھری اپنا کام نہیں کرسکی، اور حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ کو ذبح نہیں کرپائے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو مقصود ان کو آزمانا اور ان کا امتحان لینا تھا کہ ان کے نزدیک اللہ کی محبت زیادہ ہے یا بیٹے کی، اسی درمیان آسمان سے آواز آئی {يّٰۤاِبۡرٰهِيۡمُۙ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا‌ۚ}(الصافات: 105) اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا،
اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جنت سے ایک مینڈھا بھیجا تاکہ اسے ذبح کریں، اللہ نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کا یہ عمل بہت ہی زیادہ پسند آیا اور اس کو تمام امت مسلمہ کے لیے قیامت تک کے لئے رائج کردیا، جس کی وجہ سے اسلام میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر حسب استطاعت قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔
ارشاد باری ہے {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2) لہذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔ اور نہ کرنے والوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے "مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا." (سنن ابن ماجہ:3123) جو شخص(قربانی کرنے کی) استطاعت رکھتا ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
محترم قارئین کرام! قربانی صرف جانوروں کو ذبح کرنے کا نام نہیں ہے، قربانی میں اخلاص بہت ضروری ہے، دکھاوے اور نام و نمود کے لیے قربانی بے فائدہ ہے، اور یہ عمل سنت ابراہیمی کی بے حرمتی کا باعث ہے، سوائے نام ونمود کے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے {لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ‌ؕ} (الحج:37) اللہ تعالیٰ کے پاس نہ ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون، بلکہ اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔
اور اللہ کے رسولﷺ نے بھی فرمایا ہے "إنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إلى صُوَرِكُمْ وأَمْوالِكُمْ، ولَكِنْ يَنْظُرُ إلى قُلُوبِكُمْ وأَعْمالِكُمْ." (صحيح مسلم:5264)  یقینا اللہ تعالی نہ تمہارے جسموں کو اور نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے بلکہ تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے 
قرآن و احادیث سے ہمیں یہی حکمتیں معلوم ہوتی ہے کہ قربانی اللہ کا قرب، تقوی، ایثار و جانثاری، مومنانہ صورت و سیرت اور مجاہدانہ کردار کا حامل ہے۔

🖊️احمد صدیق


No comments: