.

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام قسط نمبر ۶






زمزم کا پانی 

  یہ بنجر زمین، کہیں پر  نہ درخت کے آثار، نہ دور دور تک انسانوں کی چہل پہل اور ساتھ میں کوئی توشہ تک نہیں۔ ذرا ہی وقت گزرا تھا کہ چھوٹے بچے جس کی رضاعت کی عمر تھی اس کو پیاس لگی اور بھوک سے پریشان ہوکر رونے لگا، حضرت ہاجرہؑ کے سینے کا دودھ بھی سوکھ گیا تھا، اس ماں نے ارادہ کیا کہ اپنے بچے کو پانی پلائے، لیکن پانی تو یہاں کہاں؟ یہ تو بنجر زمین ہے، پھر بھی اس نبی کی بیوی کو مایوسی نہیں ہوئی، وہ صفا پہاڑی پر چڑھی اور دیکھنے لگی کہ پانی کہیں نظر آتا ہے؟ پھر وہاں سے مروہ پہاڑ پر، اس طرح صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا پہاڑی کے کل سات چکر لگائے اور پھر بچے کی فکر میں واپس چلی گئی اور دیکھ کر حیران رہ گئی۔ 
اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کی مدد فرمائی اور جہاں اسمٰعیل ؑ پیاس کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں سے اللہ نے پانی کو جاری فرمایا اور پانی زمین سے نکلنے لگا، حضرت اسمٰعیل ؑ اور حضرت ہاجرہؑ دونوں سیراب ہوگئے، لیکن پانی رک نہیں رہا تھا، نکلتا ہی جارہا تھا تو حضرت ہاجرہؑ نے اس پانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”زمزم“(رک جا)، پھر اس کنویں کا نام زمزم پڑ گیا۔ 
اللہ تعالیٰ نے اس زمزم پانی میں برکت رکھی ہے، جوکبھی کم نہیں ہوتا، اور لوگ حج میں جانے کے بعد اس سے خوب سیراب ہوتے ہیں، اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں، اور اپنے قریبی لوگوں کو ہدیہ بھی کرتے ہیں۔ 
یہ پانی بڑا بابرکت ہے، اس پانی میں اللہ نے شفا رکھی ہے، حضور اقدسﷺ کا فرمان ہے کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جاتا ہے اسی کے مطابق اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد پورا ہوتا ہے (ابن ماجہ:۲۶۰۳)۔ 
  اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ جس طرح کوششیں کرتا ہے اللہ اس کے لیے اسی طرح راستے کھول دیتا ہے اور کوشش کرنے سے اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
 احمد صدیق ✒️

No comments: