.

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام قسط نمبر ٥





حضرت ابراہیم ؑ کی مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت 

  حضرت ابراہیم ؑ جب لوگوں کو بت پرستی سے اللہ کی عبادت کی طرف بلاتے تو لوگ آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے، نہ آپ کی باتوں کو سنتے اور نہ ہی آپ کا کہنا مانتے، لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے معجزات کو دیکھا لیکن افسوس اور تعجب کہ کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا، حضرت ابراہیم ؑ ان میں تبلیغ کرتے رہے، اپنے والد آزر سے بھی صاف صاف فرمایا    (يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ عَصِيًّا) ترجمہ: اے میرے ابا جان ! شیطان کی عبادت نہ کیجیے یقین جانیے کہ شیطان خدائے رحمن کا نافرمان ہے۔
ابراہیم ؑ کی اس دعوت پر ان کے والد نے غصہ کیا، آپؑ کو اپنے گھر سے باہر نکالا، یہاں تک کہ آپ ؑ کا اپنے وطن (عراق) میں رہنا مشکل ہوگیا لیکن اللہ نے آپؑ کو تنہا نہیں چھوڑا۔  پھر ابراہیم ؑ نے  ہجرت کا ارادہ فرمایا تاکہ کسی دوسری جگہ پر جائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور لوگوں کو اس کی طرف بلائیں، تو حضرت ابراہیم ؑ نے بحکم الہی مکہ کا رخ کیا اور ملک شام سے گزرتے ہوئے آپ مکہ مکرمہ پہنچے، اور آپؑ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت ہاجرہ ؑ اور آپ کے فرزند حضرت اسمعیل ؑ تھے۔ 
اس وقت مکہ کی سرزمین بنجر اور غیرآباد تھی، وہاں نہ کوئی انسان تھا اور نہ کوئی درخت، نہ کوئی کنواں تھا اور نہ کوئی نہر۔
حضرت ابراہیم ؑنے اپنے بیٹے اسمٰعیل ؑ کو حضرت ہاجرہ ؑ کے پاس چھوڑا اور اس کی پرورش کرنے کا حکم دیا اور خود چل دیے، چونکہ حضرت ابراہیم ؑکو اللہ کی طرف سے حکم تھا کہ سرزمین شام میں دین کی تبلیغ کریں، حضرت ہاجرہؑ ان کے جانے کو دیکھتی رہی اور آواز دینے لگی کہ کیا آپ ہمیں یہاں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ یہاں نہ کھانا ہے اور نہ پانی، تو حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ مجھے تو اللہ کا حکم یہی ہے، تو حضرت ہاجرہؑ کہنے لگی ہاں تب تو اللہ ہمیں ضائع نہیں کریں گے۔ 
حضرت ہاجرہؑ کو اپنے رب پر یقین اور کامل توکل تھا، اور اللہ بندوں کے گمان کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہے، ہمیں بھی ہر حال میں اللہ پر توکل اور اس پر یقین کرنا چاہیے، ہم جس حال میں بھی ہوں، تنگی ہو یا فراوانی، کھلانے پلانے والا اللہ ہی ہے اور وہی اپنے بندوں کی حاجتوں کو بہتر طریقہ سے پورا کرنے والا ہے۔
 احمد صدیق ✒️

No comments: