.

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام قسط نمبر (٢)






ابراہیمؑ کی بت شکنی (بتوں کا توڑنا)

جب حضرت ابراہیم ؑاپنی قوم کو بتوں کی عبادت کرتے دیکھتے تو اپنے ہی دل میں یہ کہتے کہ میں ایک دن ان بتوں کو ضرور توڑ ڈالوں گا۔
ان ہی دنوں کا واقعہ ہے کہ لوگوں کی خوشی یعنی عید کا دن آگیا، شہر کے لوگ، بچے، بوڑھے سب عید کی رسومات ادا کرنے (عبادت) کے لیے نکلے، حضرت ابراہیمؑ کے والد بھی ان کے ساتھ چلے گئے، چلتے وقت انھوں نے اپنے بیٹے حضرت ابراہیمؑ کو بھی بلایا، تو ابراہیمؑ نے ساتھ جانے سے انکار کیا اور اپنے والد سے کہا کہ میں بیمار ہوں اس لیے نہیں آسکتا۔ اب حضرت ابراہیمؑ کو ایک موقعہ مل گیا اور جس گھر میں بت رکھے ہوئے تھے وہ اس گھر میں چلے گئے، ابراہیم ؑ کو بتوں کی بے بسی اور عاجزی کے بارے میں معلوم تھا اس لیے آپ نے ان بتوں کے توڑنے کا ارادہ کیا تاکہ لوگ بھی اپنے معبودانِ باطل کی بے بسی اور عاجزی کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اور ہوسکتا ہے کہ اس سے کسی کے دل میں ایمان پیدا ہو اور وہ شرک سے توبہ کریں، اس ارادے سے حضرت ابراہیم ؑ نے ایک کلہاڑی لی اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا، بس صرف ایک بڑے بت کو چھوڑا اور اس کی گردن میں اس کلہاڑی کو لٹکا دیا۔ اور جب ان بتوں کا تہوار ختم ہوگیا تو شام کو لوگ لوٹنے لگے اور اس گھر میں داخل ہونے لگے جس گھر میں ان کے بہت سارے بت تھے تاکہ ان کو سجدہ کریں، اس لیے کہ یہ دن تو عید کا دن ہے، لیکن یہ کیا ہوگیا؟ جیسے ہی وہ داخل ہوئے تو انھوں نے اپنے بڑے بت کو دیکھا کہ اس کی گردن پر کلہاڑی لٹکی ہوئی ہے اور تمام چھوٹے بت ریزہ ریزہ ہوچکے ہیں۔ 
لوگوں نے غصے سے کہا کہ کون ہے وہ جس نے ہمارے معبودوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا ہے؟ اور لوگ دہشت میں پڑگئے اور افسوس بھی کرنے لگے کہ کاش ہم اپنے معبودوں کی حفاظت کے لیے کسی کو چھوڑ تے جو ان کی حفاظت کرتا۔ 
ذرا سوچیے! معبود جس کی عبادت کی جاتی ہے، جس کے لیے سجدے کیے جاتے ہیں تو کیا اس کی عبادت کرنے والا اور اس کے لیے سجدہ کرنے والا اس کی حفاظت کرسکتا ہے؟ معبود تو وہ ہوتا ہے جو بے نیاز ہوتا ہے، اس کو کسی کی حفاظت کی ضرورت تو ہوتی نہیں ہے وہ خود دوسروں کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ جب ذرا ہوش ٹھکانے لگنے لگے تو آپس میں چہ می گوئیاں ہونے لگی کہ یہ کس کی حرکت ہوسکتی ہے؟ چوں کہ حضرت ابراہیم ؑ شروع ہی سے بت پرستی کے خلاف تھے اور تہوار کی خوشیوں میں بھی ان کے ساتھ شریک نہ ہوسکے تھے اس لیے شک کی انگلیاں انھیں کی طرف اٹھنے لگیں، کچھ لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے شک کی تصدیق کرنی چاہی اور پوچھا کہ اے ابراہیم! کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ اس طرح کی حرکت تم نے کی ہے؟ 
اس پر حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے کہا  ”بلکہ یہ سب ان بڑے میاں نے کیا ہے ان ہی سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں“۔ آدمی کی عقل بھی یہی کہتی ہے کہ بڑا معبود موجود ہے اورکلہاڑی بھی اسی کی گردن پر لٹک رہی ہے تو اسی سے اس کا ماجرا پوچھنا چاہیے۔ لوگ اس بات کو اچھی طرح سے جانتے تھے کہ یہ بت پتھر ہے جو نہ سنتا ہے اور نہ ہی بولتا ہے اور اس بات کو بھی جانتے تھے کہ یہ بڑا بھی انھیں کی طرح پتھر ہے جو نہ چل سکتاہے اور نہ حرکت کر سکتا ہے اور نہ ہی ان چھوٹے بتوں کے توڑنے کی اس میں قدرت ہے۔ 
حضرت ابراہیم ؑ کے جواب پر ان کو عاجزی اوربے بسی کی حالت میں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اور انھوں نے خود ابراہیم ؑ سے کہا کہ اے ابراہیم! تمھیں تو معلوم ہی ہے یہ بت بات نہیں کر سکتے!!
اب حضرت ابراہیمؑ کو موقع ملا تو آپ فوراً فرمانے لگے کہ یہ بے زبان (جو بات نہیں کرسکتا) اس کی عبادت سے کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ بوجھ نہیں ہے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟
 سب کی زبانیں خاموش ہوگئی اور شرمندگی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔

احمد صدیق ✒️

No comments: