.

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام - قسط نمبر (۱)




الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین وبعد 

  حضرت سیدنا ابراہیم ؑحضرت سیدنا آدم ؑ کے بعد آنے والے سب سے بڑے پیغمبر حضرت سیدنا نوحؑ کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ شہرِ عراق کے کلدانی خاندان کی ایک بڑی شخصیت کے بیٹے تھے، حضرت ابراہیم ؑ کا خاندان ستارہ پرست مشرک خاندان تھا، یہ لوگ ستاروں کو خدا سمجھ کر ان کی علامتوں کو بت (مورتی) کی صورت میں بنا کر اس کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان بتوں کو بیچتے تھے، ان کے گھر میں بھی بہت سارے بت تھے، (وہ بت تراش اور بت فروش تھے)۔
  جب حضرت ابراہیمؑ چھوٹے تھے اورلوگوں کو بتوں کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھتے تھے تو حیرت میں پڑتے تھے کہ لوگ بے جان پتھروں کے سامنے اپنے سروں کو کیوں جھکاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑکا دل ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے کہ حضرت ابراہیم ؑجانتے تھے کہ یہ بت صرف پتھر ہیں جو نہ بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی سن سکتے ہیں، نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ابراہیم ؑیہ بھی دیکھتے تھے کہ اگر کوئی مکھی ان بتوں پر آکر بیٹھے تو یہ بت ان کو ہٹا بھی نہیں سکتے۔ 
حضرت ابراہیم ؑکو اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ لوگ ان بتوں کے لیے کھانا اور مٹھائیاں لاکر رکھتے ہیں اور چوہا ان کو کھاجاتا ہے اور یہ بت اس کو روک بھی نہیں سکتے۔ 
  حضرت ابراہیم ؑجب چھوٹے تھے اور ان ساری چیزوں کو دیکھتے تھے تو اپنے والد آزر سے کہتے تھے کہ اے میرے اباجان! آپ ان بتوں کو کیوں کر سجدہ کرتے ہیں؟ ان کی عبادت کیوں کر کرتے ہیں؟ اس طرح حضرت ابراہیم ؑ کے ذہن میں یہ بات نہیں جاتی تھی کہ یہ لوگ ان بتوں سے کیوں  مانگتے ہیں؟ 
  اس کے بعد سے حضرت ابراہیم ؑ لوگوں کو اس کے بارے میں نصیحت کرنے لگے، لوگ آپ سے بھاگنے اور نفرت کرنے لگے، نہ آپ کی بات دھیان سے سنتے اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ ان باتوں کو دیکھ کر بہت کڑھتے رہتے تھے۔

احمد صدیق ✒️



No comments: