.

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام- قسط نمبر (٤)


حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ کو پہچاننا
حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی میں ہمارے لیے بہت سارے نمونے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعات میں بہت کچھ ہدایت رکھی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی پیدائش تو اس گھر میں ہوئی ہے جس گھر میں بت فروشی کی جاتی تھی، انھوں نے جب سے اپنی آنکھیں کھولی بت پرستی کو ہی دیکھا لیکن اللہ کی توفیق سے بتوں کی نفرت اور ایک اللہ کی محبت ان کے دل میں بیٹھ گئی۔ 
قرآن نے ایک واقعہ کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایک مرتبہ جب رات میں ستارہ نظر آنے لگا تو آپ کو خیال آیا کہ یہ تو بڑی بلندی پر ہے اور دمکتا بھی ہے لہذا اس کو میں بھی رب مان لیتا ہوں، لیکن کچھ دیر بعد جب ستارہ ڈوب گیا تو آپ کی زبان پر آیا کہ ایسے ڈوبنے والے سے مجھے واسطہ نہیں ہے۔ 
پھر جب چاند نظر آنے لگا کہ وہ رات میں نکل کر خوب اپنی روشنی پھیلا رہا ہے تو آپ کو خیال آیا کہ ٹھیک، یہ تو رب ماننے کے ضرور لائق ہے، لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو آپ کی زبان پر آیا کہ جب تک میرا رب خود ہی میری رہبری نہیں کرے گا میں راستہ نہیں پاؤں گا۔ 
پھر کچھ عرصے بعد آپ کا خیال سورج کی طرف گیا جو کہ پوری طرح چمک کر دنیا بھر کو منور کررہاتھا، دفعۃً آپ کو خیال آیا کہ یہ تو سب سے بڑھ کر ہے، بس یہی میرا رب ہے، لیکن شام کو جب یہ بھی غروب ہوگیا تو آپ پکار اٹھے کہ ان میں سے کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ 
میں تو سب سے کٹ کر صرف اسی ایک معبود برحق کی عبادت کروں گا جو (صرف چاند اور سورج ہی کا نہیں، بلکہ)آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے۔ پھر اپنی قوم سے کہنے لگے کہ تمھارے مشرکانہ عقیدے سے میں پوری طرح براءت کا اعلان کرتا ہوں اور اس پروردگار سے اپنا ناطہ جوڑتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے اور پورے اخلاص کے ساتھ اسی کی اطاعت میں لگا رہتا ہوں۔ یہی وہ حکیمانہ انداز ہے جس کے ذریعے اپنی قوم کو خاموش کیا، ان کے عقیدے اور مشرکانہ تصور کا قلعہ پاش پاش کیا۔ 
جب کوئی اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی طلب کرتا ہے تو اللہ کو اس طرح طلب کرنا بہت محبوب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کو وہ چیز دے دیتے ہیں جس کو وہ طلب کررہا ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم ؑ نے پہچانا کہ ان کا رب تو اللہ ہے جو ہمیشہ ہمیش زندہ رہتا ہے جس کو موت کبھی نہیں آتی ہے، جو بڑا طاقت ور ہے، کوئی چیز اسے مغلوب نہیں کرسکتی ہے، اور اللہ تو وہی ہے جس نے ساری کائنات کو بنایا ہے اور عبادت کے لائق تو وہی ہے اور اسی کی عبادت کی جانی چاہیے۔ 
اس طرح اللہ جلّ جلالہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت دی اور آپ کو نبی بنایا اور اپنا دوست بنایا اور ابراہیم ؑ کو خلیل کا لقب دیا، اس لیے حضرت ابراہیمؑ کو خلیل اللہ کا کہا جاتا ہے۔
احمد صدیق ✒️

No comments: